نئی دہلی؍بنگلورو، یکم مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) کرناٹک میں 12 مئی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے مدہ نظر آج وزیر اعظم نریندر مودی بی جے پی کی انتخابی مہم کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے ووٹنگ کی تاریخ قریب آ رہی ہے ، ویسے ہی ویسے بی جے پی ہندوتو کا اشو سامنے لا رہی ہے ۔ ریاست میں بی جے پی کی لیڈر اور پارلیمانی کرن شوبھا کرندلاجینے پیر کے روز ٹویٹ کیا کہ کرناٹک کے ہندووں کو اپناووٹ بی جیپی کو دینا چاہئے ۔ انہوں نے ریاست میں اقتدار پارٹی کانگریس پر مسلموں کا ساتھ دینے کا بھی الزام لگایا۔
بی جے پی کی پارلیمانی رکن کرندلاجے کے اس ٹویٹ کو لے کر تنازعہ ہو ا۔ جس کے بعد انہوں نے اس ٹویٹ کو حذف کر دیا ۔ مذکورہ معاملہ میں بی جے پی کے سی ایم کینڈیٹ بی ایس سی یدو رپا نے کہا کہ پی ایم مودی کی ہدایتوں کے مطابق پارٹی صرف ترقی کے ایجنڈے پر ہی انتخابی لڑائی لڑے گی۔
ہندوتوکے بی جے پی میں بڑے چہرے اتر پردیش کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ اور مرکزی وزیر آننت ناگ ہیگڑے کو بھی ریاست میں آئندہ 10 دنوں کے اندر بی جے پی کے لئے مہم کرنے کو کہا گیا ہے ۔ دونوں لیڈران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے بیان اور مہم کے درمیان ہندوتوپر ہی فوکس کریں۔
آدتیہ ناتھ یوگی نے اس سے قبل کرناٹک میں فرقہ واریت کا اشو اٹھایا تھا ۔ تاہم ، گورکھپور اور پھول پور اسمبلی سیٹوں پر شکست ملنے کے بعد سے یوگی فی الحال کرناٹک سے دور ہیں۔ ایسے میں کانگریس کو لگتا ہے کہ یوگی اب کرناٹک میں مہم کرنے نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
یہاں تک کہ ہیگڑے ، جنہوں نے آئین پر کی گئی تنقید پر ہوئے تنازعہ کے بعد سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ، اب وہ بھی اپ نے پرانے جوش میں واپس آ رہے ہیں۔ گچھ روز قبل ہیگڑ نے ریاست کے سدارمیا حکومت کو ائنٹی ہندو (ہندو مخالف) قرار دیا تھا۔
ریاست کے موجودہ سی ایم اور کانگریس کے لیڈر سدارمیا بھی ہندوتوکے اشو کے تحت بی جے پی ، یوگی آدتیہ ناتھ اور آننت ہیگڑے پر نشانہ لگا رہے ہیں۔
خیر جو بھی ہو ، یہ دیکھنا تے ہے کہ ریاست میں 12 مئی سے قبل تمام پارٹیاں فرقہ واریت سے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتیں رہیں گی۔